Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri (رحمۃ اللہ علیہ)
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ 90 کی دہائی کا تذکرہ ہے میں قبلہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب برکاتی فاؤنڈیشن کا طوطی بول رہا تھا۔۔۔قبلہ شاہ صاحب کے محبین اور متعلقین جانتے ہیں حضرت کا ایک مزاج تھا اہل محبت میں سے کوئی بھی آجاتا تو جہاں تک ممکن ہوتا اور جو ان سے ہوپاتا اس کے لیے کرتے ضرور تھے ۔
اس دن بھی کراچی سے باہر کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور اپنےمدرسے کے حوالے سے بات کررہے تھے کہ ان میں سے ایک صاحب نے کہا ۔حضرت آپ برکاتی فاؤنڈیشن والوں سے بات کریں وہ ہمیں یہ فنڈ مہیا کر دیں ۔
قبلہ شاہ صاحب مسکرائے اور ایک واقعہ سُنایا غالباً یہ داتا صاحب کا واقعہ ہے یا کسی اور بزرگ کا ۔جو میرے حافظے میں محفوظ رہا اپنے الفاظ میں سُنا رہا ہوں۔
ایک اللہ والے بزرگ تھے جو آتا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کر دیتے لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جو تھا سب لٹا دیا لیکن لوگ آتے گئے بزرگ کو شرم آتی تھی کہ کسی کو خالی ہاتھ لوٹائیں تو لوگوں سے قرض لینا شروع کر دیا اور قرض لے کر لوگوں کی مدد کرنے لگے ۔
کچھ عرصے کے بعد قرض دار بزرگ کے پاس آئے اور تقاضا کرنے لگے ۔۔۔جب تقاضا بہت بڑھا تو بزرگ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی اے اللہ ! میں نے اپنے لیے کب لیا تیرے بندوں کے لیے لیا۔
غیب سے آواز آئی بندہ بن رزاق نہ بن ۔
برکاتی فاؤنڈیشن بھی سب کو کیسے سنبھال سکتی ہے۔۔۔آج مجھےیہ واقعہ یاد آگیا،اس وقت مجھ نا چیز کے ساتھ بھی یہ ہی صورتِ حال ہے قبلہ ایک سیٹ چاہیے ،۔۔۔کچھ سیٹ ہمارے مدرسے کے لیے بھی عنایت کر دیجیے بڑی نوازش ہو گی ۔۔۔میں نے آج تک کسی سے کوئی کتاب نہیں مانگی ہمیشہ خرید کر پڑھی ہےلیکن مہربانی ہوگی حالات کچھ ایسے ہیں خرید نہیں سکتا براہ کرم گھر بھیج دیجیے ۔۔۔ہم تو استاد ہیں ہمیں تو یہ تحفۃ ہی ملنا چاہیے ۔۔۔حضرت میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں۔وغیرہ وغیرہ ۔
آپ تمام دوستوں سے الگ الگ عرض کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے سوچا ایک ہی نشست میں مکمل بات کر لوں ۔
میرے محترم دوستو! میں آپ ہی کا طرح کا عام آدمی ہوں نہ صنعت کار ہوں اور نہ ہی پیر فقیر کہ بہت سارے صنعت کار میرے مرید ہوں اور میرے پاس نذرانوں کا ڈھیر ہو ۔۔۔میرے دوستوں میں کوئی مجھے نہ تو پیپر کی شکل میں ڈونیشن دیتا ہے اور نہ ہی پرنٹنگ کی شکل میں ۔۔۔بائنڈر بھی پورےپیسے لیتا ہے اور لیمینشن والا بھی کوئی رعائیت نہیں برتا ۔۔۔میرے پیچھے نہ کوئی آرگنائزئشن کھڑی ہے اور نہ کوئی فنڈنگ ہے اس لیے میرے دوستو! میں یہ کتابیں آپ کو مفت میں یعنی تحفۃً دینے سے قاصر ہو ں میری مجبوری کو سمجھیے۔
کچھ باتیں میں آپ کو سمجھاتا ہوں ۔
میں بھی آپ ہی کی طرح سمجھداری دکھا سکتا تھا جو رقم میں نے ان کتابوں میں لگائی ان سے مجھے گاڑی لینی تھی تاکہ مجھے اور میری فیملی کو کچھ سہولت میسر آئے، میں موٹر سائیکل پر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان کا رسک لیےنہ گھوموں ۔۔۔میں بھی آپ کی طرح اپنا اسٹیٹس بناؤں ۔۔۔لیکن نہیں جناب ! یہ کام زیادہ ضروری تھا کر لیا اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان کہ اس نے اپنے دین کا کام لے لیا دعا ہے وہ قبول بھی فرمائے (آمین )کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے کسی سے کوئی امداد یا بھیک نہیں چاہیے ۔ اللہ کریم نےفضل فرمایا تو جو بن پڑا کر لیں گے۔ ان شاء اللہ ۔
یہ تھا تصویر کاایک رخ اور تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ کیجیے
جن دوستوں نے ہماری اس سلسے میں مدد کی پوری دیانت دار کے ساتھ وہ سیٹ تقسیم کر دئیے ہماری فیس بک وال اس کی گواہ ہے اور اس کے باوجود یہ ہی عرض دوستوں سے کی کہ خود تقسیم کریں ہم پر یہ بار نہ ڈالیں لیکن دوست بھی ہمارے دوست تھے کہنے لگے اچھا تو صرف آپ ہی دنیا میں وہ واحد فرد ہیں جنہیں اپنی آخرت کی فکر ہے ۔۔۔اتنے خود غرض مت بنیے ہمارے لیے بھی سوچیے توبادلِ نخواستہ ان کی ہاتھوں بلیک میل ہو گئےاور یہ ذمے داری لے لی ۔
یقین جانیے آپ ہی کی طرح کا آدمی ہوں کوشش کیجیے مجھے اس حوالے سے پریشان نہ کریں بڑی نوازش ہو گی ۔
آپ سب نے وہ کہانی ضرور پڑھی ہو گی کہ ایک شخص تجارت کے لیے جا رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک بکری کہیں سے گوشت کا ٹکڑا لائی اور بوڑھے اور بیمار شیر کو کھلانے لگی یہ شخص یہ دیکھ کر بہت متاثر ہو ا اور کہنے لگا کہ ارے مجھے کیا ضرورت ہے کچھ کمانے کی اللہ تعالیٰ رزاق ہے عطا کر دے گااور یہ واپس گھر آکر بیٹھ گیا تین دن جب بھوک سے بے حال ہوا تواسے آواز سُنائی دی کہ تو نے بوڑھا اور بیمار شیر تو بننا پسند کیا لیکن وہ بکری بننا پسند نہیں کیا جو شیر کو لا کر کھلا رہی تھی تو بھی کماتا اور لوگوں کو کھلاتا ۔
میں ان تمام دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہم سے کئی سیٹ خریدے اور تقسیم کیے کئی علماء کرام ان کو سلام انہوں نے سنہری صحاح ستہ کے کئی سیٹ اپنی مساجد میں اسٹال لگوائے ریٹ تو ریٹ فروخت کرکے ہمیں ہماری رقم پہنچائی ۔
مصنف خود آپ کو تحفے کے طور پ رکتا ب دے تو ٹھیک ورنہ اس سے مانگیے نہیں ۔
براہ کرم کتاب خرید کر پڑھیے مصنف کو اس حوالے سےآزمائش میں مت ڈالیں اسے تو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ تم ان حالات میں لکھ رہے ہو جب کہ دنیا، دنیا کمانے کے لیے کیا کچھ نہیں کررہی ہے اس محسن کو محسن جانیے نہ کہ مصنف یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اب قلم رکھ دیا جائے اس سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ اس نے قلم کیوں اٹھایا؟
خیال کیجیے !مصنف کو اپنا آپ مجرم نہ دکھائی دے ۔
اسمٰعیل بدایونی
25 جنوری2021

Comments
Post a Comment