Kitaboon ki Taqseem Kyon?

کتابوں  کی تقسیم کیوں ؟

ترجیحات کے تعین میں ہم اجتماعی طور پر غفلت کا شکار رہے ہیں ۔۔۔ایصالِ ثواب  کے  لیے ہم نے یہ طے کررکھا ہے کہ ہم صرف کھانا ہی کھلائیں گے ۔۔۔ایصالِ ثواب کی اصل روح کو ہم نے بھلا دیا علم کا حصول ہمارے ہاں قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔

کھانا کھلانا یقیناً باعث ثواب اور کارِ خیر ہے مگر اس سے کہیں بڑھ کر علم کی ترویج و اشاعت ہے جس میں ہم بحیثیت قوم ناکام نطر آتے ہیں ۔

پیر کرم شاہ الازہری صاحب کے یہ جملے  بار بار پڑھنے کے لائق ہیں ۔

ایک مفلوک الحال انسان کی خالی جھولی کو اگر آپ لعل و گہر سے بھر دیتے ہیں تو آپ نے اس کی مفلوک الحالی کا تو ازالہ کر دیا لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آپ نے اس کی اصلاح بھی کر دی ، ہو سکتا ہے وہ شخص غربت کی حالت میں بے ضرر و ،مرنجاں قسم کا تھا ،اب دولت کے نشہ سے مخمور ہو کہ فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے لگے ۔

ایک شخص جس کے پاس سر چھپانے کے لیے جھونپڑا تک نہیں فٹ پاتھ  پر پڑا موسم کی چیرہ دستیوں کا ہدف بنا رہا ہو اگر آپ اس کی باعزت رہائش کا اہتمام فرما دیتے ہیں اور بادو باراں کی بے رحمیوں سے اس کو نجات مل جاتی ہے تو اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ آپ نےاس کی اصلاح بھی کر دی ۔ہوسکتا ہے وہ وہاں بزم عیش و طرب آراستہ کرے اور فسق و فجور کے اندھیروں میں اپنے ساتھیوں سمیت غرق ہو جائے۔

اصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ انسان کے پہلو میں دھڑکنے والا دل سنور جائے ۔۔۔(مقالات  جلد اول صفحہ 77 از پیر کرم شاہ الازہری )

اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ضروری ہے کہ علم کی اشاعت ترویج  پر بھرپور توجہ دی جائے بے شک پیٹ  پر پتھر باندھنے پڑیں لیکن اصحاب صفہ کی سنت کو زندہ کیا جائے ۔۔۔

میری گذارش ہےاہلِ ثروت حضرات سے جہاں تک ممکن ہو سکے علم کی ترویج و اشاعت میں کما حقہ اپنا حصہ ضرور ملائیں لٹریچر کی اہمیت سے  انکار ممکن نہیں ۔۔۔آج جہالت کے اندھیروں کو مٹانے کی جس قدر ضرورت ہے اس سے قبل نہیں تھی ۔ایصال ثواب کا ایک بہترین ذریعہ کتابیں ہیں ۔

ایک وقت کا کھانا یقیناً ایک شخص کا پیٹ بھر دے گا ۔۔۔آپ کو کھانا کھلانے کا ثواب بھی ان شاء اللہ مل جائے گا ۔

قرآن وحدیث کی تعلیمات کتاب کی شکل میں پہنچتی ہیں تو سوچیے ایک شخص نے پڑھا ایک طویل عرصے کے لیے اس کے حافظے میں محفوظ ہو گیا اس نے کسی اور سے بیان کیا ثواب آپ کے اکاؤنٹ میں آگیا ۔۔۔۔وہ کتاب کسی اور نے پڑھی ایک مرتبہ پھر ثواب جنریٹ ہونے لگا یوں کہہ لیجیے کہ کتاب کو تقسیم کرنے کا ثواب ملٹی پلائی ہونا شروع ہو گیا اور ضرب  ہی ہوتا رہے گا تا قیامت ۔۔۔تو یہ وہ صدقہ جاریہ بن جائےگا ان شاء اللہ جس کا فائدہ دوسرے مسلمان کو تو پہنچے گا ہی لیکن سب سے زیادہ فائدہ آپ کو پہنچے گا ۔۔۔کتابوں کی تقسیم میں جن لوگوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا  میں ایک مرتبہ پھر ان تما م احباب ، ڈاکٹر سید حسنین صاحب اور محمد حسن صاحب کا بہت ممنون  ہوں جن کی وجہ سےہم اس تقریب میں سنہری صحاح ستہ کے سیٹ تقسیم کرنے میں کامیاب ہو ئے ۔

اسمٰعیل بدایونی

19 جنوری 2021


Comments