Nana Jan ki Adalat
نانا جان کی عدالت
تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی
بس یار ! اب نہیں ۔۔۔بس ۔۔۔بہت کھیل لیااب سانس پھول رہی ہے ۔۔۔جواد نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ چبوترے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
ویسے مزہ نانا جان کے گھرہی آتا ہے ۔۔۔صالح نے کہا ۔
ہاں یہ بات تو ہے لیکن ہم سب مہینے میں ایک بار ہی یہاں جمع ہوتے ہیں ۔شہزاد نے کہا۔
لیکن ابھی تو ہم یہاں رہیں گے دو ہفتے تک اسکول کی چھٹیاں جو ہیں ۔۔۔دانش نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔
میں اوپر بالکونی میں بیٹھا بہت خاموشی کےساتھ ان بچوں کی گفتگو سُن رہا تھا مجھے ان کی باتوں میں دلچسپی محسوس ہوئی تو میں نے اخبار ایک طرف رکھ دیا اور ان کی باتیں سننے لگا؛ میرے ایک نواسے دانش نے کہا:دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے بارے میں ہمیں علم ہو ۔۔۔
مثلاً ؟ میرے دوسرے نواسے طلحہ جوابھی میٹرک کا طالب علم ہے نے کہنا شروع کیا ۔
ہمیں معلوم ہو نا چاہیے دنیا کیسے ترقی کررہی ہے ۔۔۔ان کے پاس کون سی نئی ٹیکنالوجی ہے وہ کس نئی ٹیکنالوجی پر قائم کررہے ہیں ؟۔۔۔ان کی نظام معیشت کیا ہے ؟ وہ لوگ دیانت دار کیو ں ہوتے ہیں ۔۔۔ان کا نظام انصاف کیسا ہے ؟ ۔۔۔ان میں خوبیاں کیا ہیں ؟ دنیا کے ممالک کی پیداوار کیا ہے ؟۔۔۔ان کی جنگی طاقت کیا ہے ؟۔۔۔دنیا کی اقوام کے مذاہب کون سے ہیں ان کے رسم ورواج اور طریقہ عبادت کیا ہے ؟۔۔۔دنیا میں موجود اقوام کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں ہمیں جاننا چاہیے ۔
طلحہ کی باتیں سُن کر تومجھے بہت خوشی ہوئی نواسے نے بات تو بہت اچھی کی تھی کم ازکم اس عمر میں میٹرک کے بچے یہ باتیں کرتے نہیں ہیں ۔
لیکن یہ تم لوگ نہیں سیکھ سکتے ؟ میرے تیسرے نواسے شہزاد نے فخر سے کہا ۔
میری ساری خوشی غارت ہو گئی کہ یہ شہزاد کیا کہہ رہاہے اسے تو یہ کہنا چاہیے بھئی ہم سب کو سیکھنا چاہیے یا ہم نہیں سیکھ سکتے یہ تو فخر سے کہہ رہا ہے" تم لوگ نہیں سیکھ سکتے " میرا دل چاہا کہ میں اوپر سے ہی یہ سوال کر وں کہ بھئی یہ بچے کیوں نہیں سیکھ سکتے ؟ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ دانش نے پوچھا: بھئی ہم کیوں نہیں سیکھ سکتے ؟
اس کے لیے ان اسکولوں میں پڑھنا پڑے گا جہاں میں پڑھنے جاتا ہوں ۔شہزاد نے فخر سے کہا۔
یعنی اولیول اور اے لیول کی جہاں تعلیم دی جاتی ہو۔طلحہ نے پوچھا۔
جی ہاں !جہاں ماہانہ فیس 30 ہزار روپے ہوتی ہے اور اتنی تو تمہارے پاپا کی تنخواہ ہے ۔۔۔شہزاد نے ہنستے ہوئے کہا تو مجھے تو بہت برا معلوم ہوا میں نے پھر سوچا میں شہزاد کو سمجھاتا ہوں ابھی میں کچھ کہنے والا ہی تھا کہ طلحہ نے بڑے تحمل سے شہزاد سے پوچھا:اچھاتو تم بتاؤ ! دنیا کا سب سے قدیم مذہب کون سا ہے ؟
شہزاد قہقہہ لگا کر ہنس دیا اور کہنے لگا : دنیا کا سب سے قدیم مذہب " ہندو مت " ہے ۔
شہزاد کی بات پر تو میں چونک پڑا لیکن میری حیرت اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب طلحہ نے شہزاد سے کہا: میرے بھائی ! آپ کی نالج تو بہت poorہے ۔
اچھا تو آپ بتائیے پھر دنیا کا سب سے پرانا مذہب کون سا ہے ؟شہزاد نے طلحہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
دنیا کا سب سے پرانا دین اسلام ہے ۔طلحہ نے کہا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس نے درست کہا ۔
طلحہ بھائی ! یہ تو آپ کہہ رہے ہیں اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ دنیا کا سب پرانا مذہب ہندو مت ہے یا اسلام ؟شہزاد نے پوچھا ۔
ایسا کرتے ہیں ہم سب نا نا جان ! کے پاس چلتے ہیں ۔
سب بچے گھر میں داخل ہونے لگے تو میں بھی مسکراتا ہوں بالکونی سے اپنی لائبریری میں داخل ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں تمام بچے لائبریری میں داخل ہو گئے ۔
ارے تم سب وہ بھی ایک ساتھ میری لائبریری میں ۔۔۔میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
نانا جان ! ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔دانش نے کہا ۔
کتنا بڑا ؟ اتنا بڑا۔۔۔۔میں نے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلاتے ہوئے کہا ۔
نہیں نہیں ناناجان ! وہ شہزاد بھائی اور طلحہ بھائی ک ک ۔۔۔۔۔۔ایک منٹ رکو دانش میاں ! میرا خیال ہے شہزاد اور طلحہ بھی مجھے بتا سکتے ہیں میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
کی نانا جان ! وہ ہمارا ایک مقدمہ ہےآپ کی عدالت میں ۔۔۔طلحہ نے کہا ۔
مقدمہ؟
جی ہاں نانا جان ! مقدمہ ۔شہزاد نے بھی کہا ۔
لیکن معلوم تو ہو مقدمہ کیا ہے ؟ میں نے دونوں سے کہا ۔
نانا جان ! ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ دنیا کا سب سے پرانا مذہب کون سا ہے ؟
بالکل ٹھیک ہے اب تم دونوں اپنے اپنے دلائل دو تاکہ عدالت فیصلہ کرے کہ کس کا موقف درست ہے ؟میں نے درمیان والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
نانا جان ! میرا یہ کہنا ہے کہ دنیا کا پرانا مذہب ہندو مت ہے ۔شہزاد نے کہا ۔
اور میرا یہ کہنا ہے کہ دنیا کا سب سے پرانامذہب اسلام ہے۔طلحہ نے کہا ۔
دیکھو ! میرے بچو! سب سے پہلے تو سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا انہوں نے اور تمام انبیاء کرام نے اسلام ہی کی دعوت دی تمام انسان سیدنا آدم علیہ السلام کی ہی اولاد ہیں آپ نے سنہری کہانیاں میں تو پڑھا ہی ہو گا۔
جی جی ! نانا جان ! بالکل اس کتاب میں تو تمام انبیاء کرام کے قصے موجود ہیں ۔دانش نے کہا۔
تو سب سے پہلے اسلام کی تبلیغ سیدنا آدم علیہ السلام نے کی اور ہمارے پیارے آقا محمد مصطفےٰ ﷺ آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اذان کی آواز سُنائی دی ۔
اذان کا احترام میں سب خاموش ہو گئے اور اذان کا جواب دینے لگے ۔
اذان کے بعد نانا جان نے کہا کہ آؤ نماز ادا کرلیں پھر یہ مقدمہ یہیں سے دوبارہ شروع کریں گے
نماز کے بعد کیا ہوا؟
شہزاد کے اور کیا کیا سوالات تھے ؟نانا جان نے کیا جواب دئیے؟
پڑھئیے اگلی قسط میں ۔۔۔
بچوں کے لیے ایسی کتابیں جن کی والدین کو ہمیشہ تلاش رہتی ہے
سنہری سیریز یعنی 6 کتابیں1500 روپے میں فری ہوم ڈیلیوری
ابھی آرڈر کیجیے03082462723 فہیم بھائی

Comments
Post a Comment